میرا چند ماہ کا بیٹا میری گود میں کلکاریاں مار رہا ہے۔ میں محبت سے اس کا پھول سا چہرہ دیکھ رہا ہوں اور ذہن میں کچھ سال قبل ہونے والی وہ بات گھوم رہی ہے۔ "پتر، کتنا عرصہ ہو گیا شادی کو؟" "جی، تین سال سے کچھ زیادہ۔" "بچے نہیں ہیں؟" "نہیں جی۔ " "پتر، یوں کر کہ جب اگلی بار جمعرات کو آئیو۔ تجھے مائی لدھن کے مزار پر لے چلوں گا۔ تین جمعراتیں وہاں دیا جلائے گا تو بیٹا پیدا ہو گا۔ آزمودہ ہے۔ اپنے زبیر کا بڑا لڑکا قاسم ایسے ہی تو ہوا تھا۔ اسلم کے ہاں بھی دونوں لڑکے اسی دیے کی کرامت ہیں۔" "کہتے تو آپ ٹھیک ہیں لیکن بابا جی! بس ایک مسئلہ ہے۔" "او کی پتر" "ایک بار اگر اس دیے کی برکت سے مجھے بچہ ہو گیا تو آئندہ ہر بار اپنے رب سے مانگنے کےبجائے میری نظریں مائی لدھن اور اسکے دیے کی طرف اٹھیں گی اور یہ مجھے منظور نہیں۔ دینے والی ذات میرے رب کی ہے۔ وہ مجھے اپنی رحمت سے جب چاہے گا، نوازے گا۔ وہ میری جھکی ہوئی پیشانی دیکھتا ہے، میرے دل سے نکلی دعا جانتا ہے۔ وہ میری ہر پکار سنتا ہے۔ وہ مجھے ناکام و نامراد نہیں لوٹائے گا۔ میں اس دیے...
مکہّ میں ابوسفیان بہت بے چین تھا ، " آج کچھ ھونے والا ھے " ( وہ بڑبڑایا ) اسکی نظر آسمان کی طرف باربار اٹھ رھی تھی ۔ اسکی بیوی " ھند " جس نے حضرت امیر حمزہ کا کلیجہ چبایا تھا اسکی پریشانی دیکھ کر اسکے پاس آگئ تھی " کیا بات ھے ؟ کیوں پریشان ھو ؟ " " ھُوں ؟ " ابوُ سُفیان چونکا ۔ کُچھ نہیں ۔۔ " طبیعت گھبرا رھی ھے میں ذرا گھوُم کر آتا ھوُں " وہ یہ کہہ کر گھر کے بیرونی دروازے سے باھر نکل گیا مکہّ کی گلیوں میں سے گھومتے گھومتے وہ اسکی حد تک پہنچ گیا تھا اچانک اسکی نظر شہر سے باھر ایک وسیع میدان پر پڑی ، ھزاروں مشعلیں روشن تھیں ، لوگوں کی چہل پہل انکی روشنی میں نظر آرھی تھی اور بھنبھناھٹ کی آواز تھی جیسے سینکڑوں لوگ دھیمی آواز میں کچھ پڑھ رھے ھوں اسکا دل دھک سے رہ گیا تھا ۔۔۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ قریب جاکر دیکھے گا کہ یہ کون لوگ ھیں اتنا تو وہ سمجھ ھی چکا تھا کہ مکہّ کے لوگ تو غافلوں کی نیند سو رھے ھیں اور یہ لشکر یقیناً مکہّ پر چڑھائ کیلیئے ھی آیا ھے وہ جاننا چاھتا تھا کہ یہ کون ھیں ؟ وہ آھستہ آھستہ اوٹ لیتا اس لشکر کے کافی قریب پہنچ چک...