Skip to main content

نحوست

ایک دفعہ کسی جنگل میں بیس مزدور لکڑیاں کاٹ رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔
خاموش موسم اچانک طوفان کا روپ اختیار کر لیتا ہے ۔۔۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے گرج چمک کیساتھ تیز بارش کی آمد ہونے لگتی ہیں ۔۔۔ مگر وہ مزدور بدستور لکڑیاں کاٹنے میں مصروف ہوتے ہیں کیونکہ انہیں جلد از جلد اپنا کام پورا کرنا ہوتا ہے ۔۔۔
اچانک آسمانی بجلی اپنی خوفناک آواز کیساتھ زمین کا رُخ کرتی ہے ۔۔
جسے دیکھ کر مزدور اپنا اپنا کام چھوڑ کر قریب بنے ایک جھونپڑی نما کمرے میں جا کر پناہ لیتے ہیں ۔۔۔
کیا دیکھتے ہیں کہ آسمانی بجلی بار بار اس جھونپڑی کی طرف آتی ہے مگر بغیر نقصان پہنچائے واپس چلی جاتی ہے ۔۔
یہ ماجرا دیکھ کر ان مزدوروں میں سے ایک کہتا ہے " شاید ہم میں سے کس ایک پر بجلی گرنا چاہتی ہے اسی لئے تو بار بار ہماری جانب آرہی ہے ۔۔۔ ایسا کرتے ہیں ہم میں سے ایک ایک کر کے جھونپڑی سے باہر جائیگا اور انتظار کرے گا اس طرح جس پر بجلی گرنی ہوئی گر جائیگی تا کہ ہم تو سکون کا سانس لے سکیں ۔۔۔ اس طرح ایک ایک کر کے مزدور باہر جاتے ہیں اور انتظار کر کے واپس اندر چلے آتے ہیں مگر کسی پر بجلی نہیں گرتی ۔۔۔ اب باری آتی ہے بیسویں شخص کی تو سب کو یقین ہو جاتا ہے یہی ہے جس کی وجہ سے بجلی بار بار ہماری طرف آرہی ہے ۔۔۔ اب اسے بھی یقین ہو جاتا ہے کہ صرف میں ہی بچا ہوں یقینا بجلی میری لئے ہی آتی ہو مجھے ہلاک کرنے ۔۔۔ یہ سوچ کر وہ باہر نہیں جاتا ۔۔۔ سارے مزدور زبردستی اسے باہر بھیجتے ہیں ۔۔ جوں ہی وہ باہر جاتا ہے آسمانی بجلی آکر سیدھا جھونپڑی پر جا لگتی ہے اور انّیس کے انّیس مزدور ہلاک ہو جاتے ہیں وہ وہ بیسواں بچ جاتا ہے ۔۔، گویا اسی بیسویں کی وجہ سے باقی انّیس بچے ہوئے تھے جبکہ انّیس اسے نحوست کی علامت سمجھ رہے تھے ۔۔۔
اس پوری کہانی کا مقصد یہ ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم کسی کو کسی چیز کا قصوروار گردان رہے ہوتے ہیں جب کہ ہو سکتا ہے اس سبب کے قصوروار ہم خود ہوں ۔۔۔
اور دوسری طرف ہم کسی اور کی وجہ سے پریشانی اور مصیبتوں سے بچتے آرہے ہوتے ہیں جسکا ہمیں علم نہیں ہوتا ۔۔۔
‫#‏منقول‬
........................
حسنین رضا

Comments

Popular posts from this blog

یہ ھوا کرتا تھا اسلام

مکہّ میں ابوسفیان بہت بے چین تھا ، " آج کچھ ھونے والا ھے " ( وہ بڑبڑایا ) اسکی نظر آسمان کی طرف باربار اٹھ رھی تھی ۔ اسکی بیوی " ھند " جس نے حضرت امیر حمزہ کا کلیجہ چبایا تھا اسکی پریشانی دیکھ کر اسکے پاس آگئ تھی " کیا بات ھے ؟ کیوں پریشان ھو ؟ " " ھُوں ؟ " ابوُ سُفیان چونکا ۔ کُچھ نہیں ۔۔ " طبیعت گھبرا رھی ھے میں ذرا گھوُم کر آتا ھوُں " وہ یہ کہہ کر گھر کے بیرونی دروازے سے باھر نکل گیا مکہّ کی گلیوں میں سے گھومتے گھومتے وہ اسکی حد تک پہنچ گیا تھا اچانک اسکی نظر شہر سے باھر ایک وسیع میدان پر پڑی ، ھزاروں مشعلیں روشن تھیں ، لوگوں کی چہل پہل انکی روشنی میں نظر آرھی تھی اور بھنبھناھٹ کی آواز تھی جیسے سینکڑوں لوگ دھیمی آواز میں کچھ پڑھ رھے ھوں اسکا دل دھک سے رہ گیا تھا ۔۔۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ قریب جاکر دیکھے گا کہ یہ کون لوگ ھیں اتنا تو وہ سمجھ ھی چکا تھا کہ مکہّ کے لوگ تو غافلوں کی نیند سو رھے ھیں اور یہ لشکر یقیناً مکہّ پر چڑھائ کیلیئے ھی آیا ھے وہ جاننا چاھتا تھا کہ یہ کون ھیں ؟ وہ آھستہ آھستہ اوٹ لیتا اس لشکر کے کافی قریب پہنچ چک...

ثابت قدم

میرا چند ماہ کا بیٹا میری گود میں کلکاریاں مار رہا ہے۔ میں محبت سے اس کا پھول سا چہرہ دیکھ رہا ہوں اور ذہن میں کچھ سال قبل ہونے والی وہ بات گھوم رہی ہے۔ "پتر، کتنا عرصہ ہو گیا شادی کو؟" "جی، تین سال سے کچھ زیادہ۔" "بچے نہیں ہیں؟" "نہیں جی۔ " "پتر، یوں کر کہ جب اگلی بار جمعرات کو آئیو۔ تجھے مائی لدھن کے مزار پر لے چلوں گا۔ تین جمعراتیں وہاں دیا جلائے گا تو بیٹا پیدا ہو گا۔ آزمودہ ہے۔ اپنے زبیر کا بڑا لڑکا قاسم ایسے ہی تو ہوا تھا۔ اسلم کے ہاں بھی دونوں لڑکے اسی دیے کی کرامت ہیں۔" "کہتے تو آپ ٹھیک ہیں لیکن بابا جی! بس ایک مسئلہ ہے۔" "او کی پتر" "ایک بار اگر اس دیے کی برکت سے مجھے بچہ ہو گیا تو آئندہ ہر بار اپنے رب سے مانگنے کےبجائے میری نظریں مائی لدھن اور اسکے دیے کی طرف اٹھیں گی اور یہ مجھے منظور نہیں۔ دینے والی ذات میرے رب کی ہے۔ وہ مجھے اپنی رحمت سے جب چاہے گا، نوازے گا۔ وہ میری جھکی ہوئی پیشانی دیکھتا ہے، میرے دل سے نکلی دعا جانتا ہے۔ وہ میری ہر پکار سنتا ہے۔ وہ مجھے ناکام و نامراد نہیں لوٹائے گا۔ میں اس دیے...