میرا چند ماہ کا بیٹا میری گود میں کلکاریاں مار رہا ہے۔ میں محبت سے اس کا پھول سا چہرہ دیکھ رہا ہوں اور ذہن میں کچھ سال قبل ہونے والی وہ بات گھوم رہی ہے۔ "پتر، کتنا عرصہ ہو گیا شادی کو؟" "جی، تین سال سے کچھ زیادہ۔" "بچے نہیں ہیں؟" "نہیں جی۔ " "پتر، یوں کر کہ جب اگلی بار جمعرات کو آئیو۔ تجھے مائی لدھن کے مزار پر لے چلوں گا۔ تین جمعراتیں وہاں دیا جلائے گا تو بیٹا پیدا ہو گا۔ آزمودہ ہے۔ اپنے زبیر کا بڑا لڑکا قاسم ایسے ہی تو ہوا تھا۔ اسلم کے ہاں بھی دونوں لڑکے اسی دیے کی کرامت ہیں۔" "کہتے تو آپ ٹھیک ہیں لیکن بابا جی! بس ایک مسئلہ ہے۔" "او کی پتر" "ایک بار اگر اس دیے کی برکت سے مجھے بچہ ہو گیا تو آئندہ ہر بار اپنے رب سے مانگنے کےبجائے میری نظریں مائی لدھن اور اسکے دیے کی طرف اٹھیں گی اور یہ مجھے منظور نہیں۔ دینے والی ذات میرے رب کی ہے۔ وہ مجھے اپنی رحمت سے جب چاہے گا، نوازے گا۔ وہ میری جھکی ہوئی پیشانی دیکھتا ہے، میرے دل سے نکلی دعا جانتا ہے۔ وہ میری ہر پکار سنتا ہے۔ وہ مجھے ناکام و نامراد نہیں لوٹائے گا۔ میں اس دیے...